Monday, 5 September 2016
Wednesday, 4 May 2016
صلات التسبیح
Thursday, 21 April 2016
جعہ کے مسائل فقہ شافعی کی روشنی میں
💐نماز جمعہ کے مسائل فقہ شافعی کی روشنی میں💐سوال ۔ جمعہ کی نماز واجب ہونے کے شرائط کیا ہے ؟ جواب۔ جمعہ کی نماز واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں (1) مسلمان ہونا (2)مکلف(عاقل بالغ) ہونا (3)مردہونا (4)معذور نہ ہونا (5)اہل وطن ہونا (6)آزادہونا {📚قرہ العین ص١٣٤۔١٣٥} |
|---|
Wednesday, 30 March 2016
مسائل انگوٹھی
Thursday, 25 February 2016
ایک شہر میں متعدد جمعہ اور فقہ شافعی
Tuesday, 23 February 2016
فقہ شافعی کا مختصر تعارف
Thursday, 18 February 2016
فقہ شافعی اور عورتوں کی نماز
🍁شافعی فقہ اور عورتوں کی نماز 🍁
♦امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اپنی مایہ نازتصنیف 📚'کتاب الام ' میں تحریر فرماتے ھیں کہ اللہ تعالی نے عورتوں کو پوشیدہ اور مستور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو اس کی تعلیم دی ہے۔ اور عورت کے لئے اس بات کو پسند فرمایا کہ وہ سجدے میں اپنے بعض حصے کو بعض سے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے ملاکر رکھے اوراسی طرح سجدہ کرے کہ اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے۔نیزاسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لئے رکوع اور جلسے اور پوری نماز میں اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ وہ اپنی چادر کو سمیٹ لے اورچادر کو رکوع اور سجدہ کرتے ھوئے اپنے اوپر ڈھیلا رکھے تاکہ اس کے کپڑے اس کی تصویر نہ کھینچیں (وقد ادب اللہ تعالی النساء با لاستتار وادبھن بذلک رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم واحب..............📚کتاب الام ص١٣٨ )
♦امام نووی رحمتہ اللہ علیہ مردوں کی نماز کے احکام بیان کرنے کےبعد تحریر فرماتے ھے "عورتیں اور خنثی اپنے اجزا کو قریب کو سمیٹ لیں(وتضم المرا ٔہ والخنثی📚منہاج الطالبین وعمدہ المفتین ص ١٠٠)
♦امام شربینی رحمتہ اللہ علیہ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ کی مذکورہ عبارت کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ھیں یہ لوگ (یعنی عورت اور خنثی) رکوع اور سجے میں اپنے اجزا کو سمیٹ لیں اور اسی طرح اپنی رانوں پر پیٹ کا سہارا دیں کیوں کہ یہ عورت کے لئے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے اور خنثی کے لئے زیادہ محفوظ (وھو من زیادتہ علی المحرر بعضھا الی بعض فی رکوعھما وسجودھما بان یلصقا بطنھما بفخذ یھما لانہ استر لھا واحوط لہ📚مغنی المحتاج ج١ص١٧٠)
♦امام بہیقی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ھیں نمازکے تمام احکام جس میں عورتوں اور مردوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔اس کی بنیاد سترہے۔ عورتوں کو طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے زیادہ پوشیدگی اور ستر قائم رہے (وجماع ما یفارق المراہ فیہ الرجل من احکام الصلوہ راجع الی الستر وھو انھا مامورہ بکل ما کان استر لھا📚سنن الکبری ج٢ص٢٢٢)
♦ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ رکوع کی تفصیل بیان کرتے ھوئے تحریر فرماتے ھیں مرد کو اپنی کہنیاں بازو اور جسم سے الگ رکھنے چاہیے جیسے عورت اور خنثی کو کہنیاں الگ نہ رکھنی چاہیے (ویجافی الرجل مرفقیہ عن جنبیہ ولا تجافی المراہ ولا الخنثی 📚روضتہ الطالبین ج١ص٣٥٥)
اسی کتاب میں ♦امام نووی رحمتہ اللہ علیہ ایک دوسری جگہ رقمطراز ھیں مرد کو کہنیوں اور بازو رانوں اور پیٹ کے درمیان فاصلہ رکھنا چاہیے ۔اس کے برعکس عورت اپنے تمام اجزاءکو سمیٹ کر قریب رکھے گی (ویرفع الرجل مرفقیہ عن جنبیہ وبطنہ عن فخذیہ والمراہ تضم بعضھا الی بعض📚روضتہ الطالبین ج١ص٣٦٤ )
♦امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ھے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عورت کے بیٹھنے کا طریقہ ایسا ہو جس میں زیادہ سے زیادہ ستر پوشی حاصل ہو(وقال الشافعی تجلس المراہ باستر مایکون لھا📚الاستذکار ج١ص٤٨٠)
طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 9422800951
♦امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اپنی مایہ نازتصنیف 📚'کتاب الام ' میں تحریر فرماتے ھیں کہ اللہ تعالی نے عورتوں کو پوشیدہ اور مستور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو اس کی تعلیم دی ہے۔ اور عورت کے لئے اس بات کو پسند فرمایا کہ وہ سجدے میں اپنے بعض حصے کو بعض سے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے ملاکر رکھے اوراسی طرح سجدہ کرے کہ اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے۔نیزاسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لئے رکوع اور جلسے اور پوری نماز میں اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ وہ اپنی چادر کو سمیٹ لے اورچادر کو رکوع اور سجدہ کرتے ھوئے اپنے اوپر ڈھیلا رکھے تاکہ اس کے کپڑے اس کی تصویر نہ کھینچیں (وقد ادب اللہ تعالی النساء با لاستتار وادبھن بذلک رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم واحب..............📚کتاب الام ص١٣٨ )
♦امام نووی رحمتہ اللہ علیہ مردوں کی نماز کے احکام بیان کرنے کےبعد تحریر فرماتے ھے "عورتیں اور خنثی اپنے اجزا کو قریب کو سمیٹ لیں(وتضم المرا ٔہ والخنثی📚منہاج الطالبین وعمدہ المفتین ص ١٠٠)
♦امام شربینی رحمتہ اللہ علیہ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ کی مذکورہ عبارت کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ھیں یہ لوگ (یعنی عورت اور خنثی) رکوع اور سجے میں اپنے اجزا کو سمیٹ لیں اور اسی طرح اپنی رانوں پر پیٹ کا سہارا دیں کیوں کہ یہ عورت کے لئے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے اور خنثی کے لئے زیادہ محفوظ (وھو من زیادتہ علی المحرر بعضھا الی بعض فی رکوعھما وسجودھما بان یلصقا بطنھما بفخذ یھما لانہ استر لھا واحوط لہ📚مغنی المحتاج ج١ص١٧٠)
♦امام بہیقی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ھیں نمازکے تمام احکام جس میں عورتوں اور مردوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔اس کی بنیاد سترہے۔ عورتوں کو طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے زیادہ پوشیدگی اور ستر قائم رہے (وجماع ما یفارق المراہ فیہ الرجل من احکام الصلوہ راجع الی الستر وھو انھا مامورہ بکل ما کان استر لھا📚سنن الکبری ج٢ص٢٢٢)
♦ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ رکوع کی تفصیل بیان کرتے ھوئے تحریر فرماتے ھیں مرد کو اپنی کہنیاں بازو اور جسم سے الگ رکھنے چاہیے جیسے عورت اور خنثی کو کہنیاں الگ نہ رکھنی چاہیے (ویجافی الرجل مرفقیہ عن جنبیہ ولا تجافی المراہ ولا الخنثی 📚روضتہ الطالبین ج١ص٣٥٥)
اسی کتاب میں ♦امام نووی رحمتہ اللہ علیہ ایک دوسری جگہ رقمطراز ھیں مرد کو کہنیوں اور بازو رانوں اور پیٹ کے درمیان فاصلہ رکھنا چاہیے ۔اس کے برعکس عورت اپنے تمام اجزاءکو سمیٹ کر قریب رکھے گی (ویرفع الرجل مرفقیہ عن جنبیہ وبطنہ عن فخذیہ والمراہ تضم بعضھا الی بعض📚روضتہ الطالبین ج١ص٣٦٤ )
♦امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ھے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عورت کے بیٹھنے کا طریقہ ایسا ہو جس میں زیادہ سے زیادہ ستر پوشی حاصل ہو(وقال الشافعی تجلس المراہ باستر مایکون لھا📚الاستذکار ج١ص٤٨٠)
طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 9422800951
Subscribe to:
Posts (Atom)