Monday, 5 September 2016


*🔵احکام قربانی فقہ شافعی کی روشنی میں🔵* *💫قربانی کا حکم💫* قربانی کے جانور کو عربی میں *اُضحِیَّہ* کہاجاتا ہے۔قربانی کرنا سنت موکدہ ہے۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص ١٣١)* چنانچہ حدیث شریف میں واردہے ۔انسان کے اعمال میں سے کوئی ایک عید الاضحی کے دن اللہ تعالی کے نزدیک قربانی کی بہ نسبت زیادہ محبوب نہیں ۔ *(📚جامع ترمذی رقم حدیث١٤٩٣)* یہاں یہ بات ذہن نشین فرمائیں کہ زندگی میں صرف ایک بار قربانی کرنا سنت نہیں بلکہ ہر سال قربانی کرنا ایک مستقل سنت ہے۔اسی لئے جس کو اللہ تعالی نے مال ودولت سے نوازا ہو اور استطاعت دے رکھی ہو تو اسے ہر سال سنت قربانی پر عمل کرنا چاہئے ۔کیونکہ استطاعت اور قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے کے لئے سخت وعید بیان کی گئی ھے۔جیسا کہ ایک حدیث میں ھے ۔ جسے قربانی کی استطاعت وقدرت ہوپھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ ہو۔ *(📚 المستدرک للحاکم ج٤ ص ٢٥٨)* اسی وجہ سے فقہائے کرام نے لکھاہے کہ قربانی پر قادر ہوتے ہوئے قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔ *(📚 مغنی المحتاج ج ٤ ص٢٨٣)* *💫قربانی کرنے کا ارادہ کرنے والوں کے چند ہدایات💫* جس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو اس کے لئے ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے قربانی کرنے تک اپنے بدن کے بال وناخن اور کسی بھی قسم کی صفائی نہ کرنا سنت ہے۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣٢)* کیونکہ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہتا ہوں تو وہ اپنے وناخن وغیرہ نہ کاٹے۔ *(📚 صحیح مسلم رقم حدیث ١٩٧٧)* *💫قربانی کے جانور کی کیفیت💫* جن جانوروں پر قربانی درست ہے انمیں سے مذکر ومونث کسی بھی جانور پر قربانی کی جاسکتی ہے۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣١)* البتہ حاملہ جانور پر قربانی درست نہیں *(📚مغنی المحتاج ج ٤ ص ٢٨٦)* خصی کئے ہوئے جانور پر بھی قربانی درست ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج ٤ ص٢٨٥)* جیسا کہ حدیث میں ھے رسول اللہ ﷺ نے دو خصی شدہ مینڈھوں پر قربانی فرملئی تھی *(📚ابوداؤد رقم حدیث ٩٥٢٧)* *💫قربانی کے جانور کی عمر💫* قربانی کے درست ہونے کے لئے ذیل میں دئیے ہوئے جانوروں پر ذکر کردہ سال کا مکمل ہونا شرط ہے ۔ اونٹ پانچ سال گائے بیل بکرا بکری دو سال مینڈھا مینڈھی ایک سال *(📚مغنی المحتاج ج ٤ ص ٢٨٤)* اس تفصیل پر حضرا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روشنی حاصل ہوتی ہے کہ رسول اللہطﷺ نے فرمایا تم مسنہ ہی ذبح کرو مگر تمہیں ملنا دشوار ہوجائے تو پھر ایک سالہ مینڈھا ذبح کرو *(📚ابو داؤد رقم حدیث ٢٧٩٧)* اونٹ میں ثنیہ کا اطلاق ٥سالہ جانور پر ہوتا ہے اور گائے بیل بکرا بکری میں دو سالہ جانور کو کہتے ہیں جیسا کہ حدیث کے الفاظ غریبہ کے ماہر علامہ جزری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وضاحت فرمائی ہے۔ *(📚النھایہ فی غریب الحدیث ج ١ص ٢٦٦)* *💫جانوروں میں حصوں کی تعداد وکیفیت💫* اونٹ گائے اور بیل پر سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣٢)* جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ھے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہر اونٹ گائے وبیل میں ہم میں سے سات لوگ شریک ہوں *(📚صحیح مسلم رقم حدیث ١٣١٨)* چھوٹے جانور یعنی بکرا بکری مینڈھا مینڈھی میں ایک جانور پر صرف ایک ہی کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج ٤ص٢٨٥)* بڑے جانور میں سات لوگ جس طرح محض قربانی کی نیت سے شریک ہوسکتے ہیں ۔اسی طرح ان میں سے بعض قربانی اور بعض عقیقہ وغیرہ کی نیت سے شریک ہوں تب بھی درست ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج ٤ص٢٨٥)* *💫جانور کے عیوب کی وضاحت💫* قربانی کے درست ہونے کے لئے جانور کا ہر ایسے عیب سے صحیح وسالم ہونا ضروری ہے۔جس کی وجہ سے اس کے گوشت وغیرہ میں کسی قسم کا نقص وخرابی پیدا ہو ۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٦)* 🌟جس جانور کی ہڈیوں کا گودا کمزوری کی وجہ سے بالکل ختم ہوگیا ہوگیا ہو تو اس پر قربانی درست نہیں ۔ 🌟پاگل جانور یعنی وہ جانور جو چراگاہ وغیرہ میں اچھے طور پر نہ چر پاتا ہو اس پر قربانی درست نہیں۔ 🌟کسی جانور کے کان کا کچھ حصہکٹ کر جسم سےالگ ہوگیا ہو یا پیدائشی ہی کسی جانور کے کان نہ ہوں تو اس پر بھی قربانی نہ ہوگی۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣٥)* 🌟البتہ کسی جانورکا تھوڑا سا کان اس طور پر کٹ گیا ہو کہ کچھ بھی حصہ جسم سے الگ نہیں ہوپایا یا صرف معمولی سوراخ ہوا ہے تو ایسے جانور پر قربانی کی جاسکتی ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٧)* 🌟جانور کےپیدائشی سرین وتھن موجود تھے بعد میں کسی نے ان کو کاٹ لیا تو ایسے جانوروپر قربانی نہیں کرسکتے ہاں اگر کسی جانورکو پیدائشی سرین وتھن نہ ہوں تو اس پر قربانی کرسکتے ہیں۔ 🌟جانور کی صحیح سالم دم کاٹ لی گئی ہوتو اس پر قربانی درست نہیں البتہ کسی جانور کی پیدائشی دم نہ ہو یا ہو مگر چھوٹی ہوت اس پر قربانی درست ہے۔ *(📚 روضتہ الطالبین ج٣ص١٩٦)* 🌟اگر جانور بہت زیادہ لنگڑا ہو کہ اپنے لنگڑے پن کی وجہ سے دوسرے جانوروں کے ساتھ چراگاہ میں برابر چر نہیں پاتا بلکہ پیچھے رہتا ہے تو اس پر قربانی نہیں کرسکتے ہاں اگر اتنا معمولی لنگڑا پن ہوکہ چراگاہ میں دوسرے جانوروں سے پیچھے نہیں رہتا تو اس پر قربانی کرسکتے ہیں۔ 🌟کانا (ایک آنکھ والے) جانور بھی قربانی درست نہیں۔ 🌟خارش (کھجلی) والا جانور چاہے خارش (کھجلی) کم ہی ہو تب بھی اس پر قربانی درست نہیں کیونکہ خارش (کھجلی) کی وجہ سے گوشت اور چربی میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٦)* 🌟اگر کسی جانور کا سینگ اتنا زیادہ ٹوٹا ہو کہ اس کا اثر اس کے گوشت تک پہونچتا ہے تو اس پر بھی قربانی نہیں ہوسکتی اگر تھوڑا سا کٹا ہوا ہو کہ اس کا اثر گوشت تک نہیں پہونچ پاتا یا پیدائشی ہی کسی جانور کے سینگ نہ ہو تو ایسے جانور پر قربانی ہوسکتی ہے۔لیکن حتی الامکان کوشش یہی رہنی چاہئے کہ قربانی سینگ والے جانور پر ہو ۔کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے ۔ بہترین قربانی سینگ والا مینڈھا ہے ۔ *(📚المستدرک للحاکم ج ٤ص٥٤)* اگرکسی جانور کے تھوڑے سے دانت گر گئے ہوں تو کوئی حرج نہیں اگر تمام ہی دانت گرگئے ہو تو اس پر قربانی درست نہیں ۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٦)* *💫کسی دوسرے کی طرف سے قربانی کا حکم💫* کسی زندہ آدمی کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر قربانی کرنا درست نہیں اسی طرح میت کی طرف سے قربانی کےسلسہ میں صحیح بات یہی ہے کہ اگر کسی نے اپنی زندگی میں قربانی کی وصیت نہیں کی ہے تو مرنے کے بعد اس کی طرف سے قربانی نہیں کی جاسکتی البتہ اگر کسی نے اپنی حیات میں وصیت کی ہو تو مرنے کے بعد اس کی طرف سے قربانی درست ہے۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ص ب١٨٤)* ہمارے معاشرے میں عام طور پریہ بات چل پڑی ہے کہ قربانی میں حضورﷺ کا بھی ایک حصہ شمار کیا جاتاہے ۔اس مسئلہ کی فقہائے کرام نے حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائی کہ ہر امتی کو نبی کریم ﷺ کی وصیت نہ ہونے کی بنا پر قربانی میں آپ کا ایک حصہ شمار نہیں کرنا۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص ٢٩٣)* *💫قربانی کا جانور کسے ذبح کرنا چاہئے💫* قربانی کرنے والا شخص اچھی طرح ذبح کا طریقہ جانتا ہو تو اسے اپنے ہی ہاتھوں قربانی کے جانور کو ذبح کرنا مسنون ہے ۔البتہ عورت کے لئے مسنون ہے کہ وہ کسی مرد کو ذبح کا وکیل بنائے اسی طرح جو بیماری یا کسی عذر کی بناء پر خود ذبح نہ کرسکتا ہو تو کسب دوسرے کو اپنا وکیل بنا سکتا ہے۔لیکن وکیل بنانے کے لئے اپنی قربانی کے پاس ذبخ کے وقت حاضر رہنا مستحب ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٤)* اسلئے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے قربانی کے موقع پر فرمایا اپنی قربانی کے پاس جاکر کھڑی رہو۔ *(📚المستدرک للحاکم ج٤ص٢٤٧)* یہاں عورتوں کے لئے نہایت ہی قابل لحاظ امر ہے کہ وہ اس حاضری میں بے پردگی کا مظاہرہ نہ کریں کہیں *نیکی برباد گناہ لازم* کا مصداق نہ ہوجائیں ۔ *💫قربانی کے گوشت کا حکم اور اس کا مصرف💫* قربانی کرنے والے کیلئےاپنی قربانی کا گوشت کھانا مستحب ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٩٠)* کیونکہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی قربانی کے جانور کا جگر تناول فرمایل تھا۔ *(📚السنن للبھیقی ج٣ص٢٨٣)* چنانچہ بہتر صورت یہ ہے کہ تھوڑا سا گوشت اپنے لئے رکھ کر بقیہ گوشت تقسیم کرے۔ *(📚فتح الوہاب ج٢ص١٨٩)* اگر کوئی اس سے زیادہ رکھنا چاہتا ہو تو مناسب ہے کہ مکمل گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرے ایک حصہ خود اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کیلئے ایک حصہ رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ فقیروں اور محتاجوں کے لئے ۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٣٩٠)* *قربانی کے چمڑے کا حکم* قربانی کا چمڑا صدقہ کرنا چاہئے اگر کوئی اپنے استعمال کیلئے رکھتا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ خوداس کاچمڑے یا گوشت کو بیچنا یا قصاب (قصائی) کو بطور اجرت دینا ہرگز درست نہیں *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ص١٤٢)* *💫جانور کے ذبح کے سلسلے میں چند ضروری ہدایات💫* ذبح کےدرست ہونے کیلئے جانور کے حلقوم (سانس کی نالی ) اور مری (غذا کی نالی ) کو مکمل کاٹناضروری ہے۔لہذا اگر ان کا کچھ حصہ بھی کٹنے سے رہ جائے تو جانورحلال نہ ہوگا۔ *(📚اقناع ج٢ص٢٢٩)* 🌟ان دونوں کے کٹتے وقت جانور میں حیات مستقرہ پائی جانی ضروری ہے۔اگر کچھ حصہ کٹنے کے بعدچھری اٹھائےاور دوبارہ رکھ کر پھیرے یا چھری گرجائے اورفورا اٹھاکر ذبح کی تکمیل کرے تو یہ جانور حلال ہوگا بشرطیکہ اس میں حیات مستقرہ باقی ہو ۔ *(📚حاشیتہ الجمل ج ٨ص١٧٥)* 🌟حیات مستقرہ سے مراد جانور میں اختیاری حرکت یعنی تڑپنا اور حرکت کرنا پایا جائے اور حرکت مذبوح سےمراد جس میں جانور کے دیکھنے سننے کی قوت اور اختیاری حرکت باقی نہ رہے۔ *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ص ١٣٥)* 🌟ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔لہذا اگر کافر ذبح کرے تو یہ حلال نہ ہوگا البتہ اگر جانور کو چیرنے اور صاف کرنے میں کافر شریک ہو تو حرج نہیں *(📚فتح الوہاب ج٨ص١٨٣)* 🌟قربانی کے لئے ضروری ہے کہ اسے ذبح کرتے وقت یا اس سے قبل قربانی کےلئے متعین کرتے وقت قربانی کی نیت کرے اگر قربانی کے لئے کسی کو وکیل بنائے تو اس کے سپرد کرتے وقت نیت کافی ہے ۔ *(📚فتح الوہاب ج٨ ص٢١٠)* *ذبح کرنے کا مسنون طریقہ* 🌟گائے بیل بکرا جیسے حیوانات کو بائیں کروٹ پر اس طرح لٹائے کہ جانور کا رخ قبلہ کی طرف ہوجائے اور خود ذبح کرنے والا بھی قبلہ رو ہو اور اس کے دائیں پیر کے علاوہ بقیہ تینوں پیر باندھ دے ۔ *(📚المجموع ج٨ص٣٠)* 🌟ذبح سے قبل جانور کے سامنے پانی (پینے کیلئے ) پیش کرے اور ای کے لٹانے میں نرمی کرے یعنی اسے پٹکے نہیں 🌟ذبح سے قبل اپنی چھری خوب اچھی طرح تیز کرلے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو *(صحیح مسلم رقم حدیث ١٩٥٥)* 🌟ذبح کے وقت ان دعاؤں کا پڑھنا مسنون ہے۔ *ﻭَﺟَّﻬْﺖُ ﻭَﺟْﻬِﻲَ ﻟِﻠَّﺬِﻱ ﻓَﻄَﺮَ ﺍﻟﺴَّﻤَﺄﻭَﺍﺕِ ﻭَﺍﻷَﺭْﺽِ ،عَلی مِلّتہ اِبراھِیمَ ﺣَﻨِﻴﻔًﺎ ﻭَﻣَﺎ ﺃَﻧَﺎ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﺸْﺮِﻛِﻴﻦَ، ﺇِﻥَّ ﺻَﻼَﺗِﻲ ﻭَﻧُﺴُﻜِﻲ ﻭَﻣَﺤْﻴَﺎﻱَ ﻭَﻣَﻤَﺎﺗِﻲ ﻟِﻠﻪِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴﻦَ، ﻻَ ﺷَﺮِﻳﻚَ ﻟَﻪُ ﻭَﺑِﺬَﻟِﻚَ ﺃُﻣِﺮْﺕُ ﻭَﺃَﻧَﺎ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﻴﻦ*َ، *(📚ابو داؤد رقم حدیث ٧٢٩٥)* بسم اللہ اللہ اکبر پھر درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھے *اللھم منک والیک فتقبل منی* *(📚المجموع ج٨ص٣٠٣)* 🌟ذبح کرتے وقت ودجین یعنی گردن کے دونوں طرف محیط رگوں کو بھی کاٹنا مستحب ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج٦ص١٠٣)* 🌟چھری پھیرنے میں جلدی کرے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو . *(📚العزیز ج١٢آص ٨٣)* ✍طالب دعا *محمد لقمان سمناکے شافعی* صدر مدرس *مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور* 📲9422800951

Wednesday, 4 May 2016

صلات التسبیح


🌟 ﺻﻼﺓ ﺍﻟﺘﺴﺒﻴﺢ کی فضیلت وطریقہ🌟 ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺭﺍﻓﻊ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﭼﭽﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎﺅﮞ؟ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺻﻠﮧ ﺭﺣﻤﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭہ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﭘﮍﮬﯿﮟاور کوئی سورت ﺟﺐ ﻗﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﮐﻮﻉ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ 15 ﺑﺎﺭ ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﷲِ ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ِﷲِ ﻭَﻟَﺎ ﺍِﻟٰﻪَ ﺍِﻟَّﺎ ﺍﷲُ ﻭَﺍﷲُ ﺍَﮐْﺒَﺮ ﮐﮩﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ، ﭘﮭﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ، ﭘﮭﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ، ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮮ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ، ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ، ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺠﺪﮮ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ 75 ﺑﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ 300 ﺑﺎﺭ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺗﻮ ‏( ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ‏) ﺍﷲ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ! ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﻮﻥ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻭﺭﻧﮧ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ‏( ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‏) ۔ (📚ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﻪ، ﺍﻟﺴﻨﻦ، ﮐﺘﺎﺏ ﺇﻗﺎﻣﺔ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻨﺔ ﻓﻴﻬﺎ، ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺻﻼﺓ ﺍﻟﺘﺴﺒﻴﺢ، 1 : .172 173 ، ﺭﻗﻢ : 1386📚اعانتہ الطالبین ج١ص٢٥٩) طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 9422800951📱

Thursday, 21 April 2016

جعہ کے مسائل فقہ شافعی کی روشنی میں

💐نماز جمعہ کے مسائل فقہ شافعی کی روشنی میں💐

سوال ۔ جمعہ کی نماز واجب ہونے کے شرائط کیا ہے ؟ جواب۔ جمعہ کی نماز واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں (1) مسلمان ہونا (2)مکلف(عاقل بالغ) ہونا (3)مردہونا (4)معذور نہ ہونا (5)اہل وطن ہونا (6)آزادہونا {📚قرہ العین ص١٣٤۔١٣٥}

Wednesday, 30 March 2016

مسائل انگوٹھی


🔎کیافرماتے ھے علمائے دین ومفتیان شرع متین مردکو کس دھات کی انگوٹھی پہننا جائزہے اور اس کی مقدار کتنی ہو ۔فقہ شافعی کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہو 🔎 🍃 السائل محمد محسن ابن امجد جوگیلکر برکاتی لپنی واوے🍃 🎙🎙جواب 🎙🎙 💐مرد کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے ۔چاندی کی انگوٹھی پہننا سنت ہے اور لوہے تانبے سیسے پیتل وغیرہ کی جائز ھے۔ (📘إعانةالطالبين ج ٢ص١٧٧) ☘انگوٹھی دائیں ھاتھ کی خنصر یعنی سب سے چھوٹی انگلی میں پھننا سنت ہے۔(📗روضتہ الطالبین ج١ص١٠١) 🌿انگوٹھی کے نگینے کو انگلی کے اندرونی جانب رکھنا افضل ہے۔(📕الحاوی للفتاوی ج١ص١٠١) 🌱حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاندی کی انگوٹھی بناؤ اور اس کی مقدار ایک مثقال سے کم ہو (📓سنن ترمذی ١٦٨٦) 🍁اس حدیث کی روشنی میں امام اذرعی اورابن الرفعہ وغیرہ نے چاندی کی انگوٹھی کی مقدار ایک مثقال 25.4گرام سے کم پھنے کو واجب لکھا ہے۔لیکن امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث کوضعیف قرار دیا ہے۔جس کی بناء پر عام فقہاء شوافع کا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ انگوٹھی کی مقدار ایسی ہو جس کوعرف عام میں اسراف اورحد سے زیادہ بڑی نہ سمجھی جاتی ہو یعنی عام لوگ عام طور پر جس مقدار کی انگوٹھی استعمال کرتے ھیں اتنی مقدار کی انگوٹھی استعمال کرنا درست ہے۔(📒اعانتہ الطالبین ج٢ص٢٤٥) واللہ اعلم بالصواب 🖋📖طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 🕌صدرمدرس مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور 9422800951📲

Thursday, 25 February 2016

ایک شہر میں متعدد جمعہ اور فقہ شافعی


🍁متعدد جمعہ کے بارے میں امام شافعی﷬ کا موقف🍁 امام بیہقی﷬ نے اپنی سند کے ساتھ امام شافعی﷬ سے نقل کیا ہے کہ ”جب شہر بڑا ہو، تو میری رائے یہ ہے کہ شہر کی بڑی مسجد میں جمعہ ادا کی جائے۔ اور وہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد کے زمانے میں ”مدینہ منورہ“ و اطراف میں جمعہ صرف مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوتا ہے۔“ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ قَالَ: فَإِذَا كَانَ مِصْرٌ عَظِيمٌ، رَأَيْتُ أَنْ يُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ فِي مَسْجِدِهِ الْأَعْظَمِ, وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ الْجُمُعَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِالْمَدِينَةِ، وَحَوْلَ الْمَدِينَةِ فِي الْعَوَالِي وَغَيْرِهَا. (📚معرفة السنن والآثار: ٦٥٧١) اسی طرح امام شافعی﷬ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”الام“ میں تحریر فرمایا ہے کہ”شہر کی صرف بڑی مسجد میں جمعہ ادا کی جائے، اگرچہ شہر کی مردم شماری، آبادی اور مساجد بڑھ جائیں، جمعہ ایک ہی مسجد میں ادا کیا جائے۔“ وَلَا يُجْمَعُ فِي مِصْرٍ وَإِنْ عَظُمَ أَهْلُهُ وَكَثُرَ عَامِلُهُ وَمَسَاجِدُهُ إلَّا فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَإِنْ كَانَتْ لَهُ مَسَاجِدُ عِظَامٌ لَمْ يُجْمَعْ فِيهَا إلَّا فِي وَاحِدٍ. (📚الأم للشافعی: ج ١ص٢٢١) اسی طرح کی بات امام شافعی﷬ سےان کے  مذہب کے علماؤں نے مندجہ ذیل کتابوں میں نقل کی ہے: (1)📚مختصر المزني ج٨ ص١٢٢ (2) 📚الحاوي الكبير ج٢ص٤٤٧ (3)📚المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي ج١ص٢٢٠ (4)📚 البيان في مذهب الإمام الشافعي ج٢ ص٦١٩ (5)📚فتح العزيز بشرح الوجيز = الشرح الكبير للرافعي ج٤ص٤٩٨ (6)📚المجموع شرح المهذب ج٤ص٥٨٤ (7)📚روضة الطالبين وعمدة المفتين ج٢ص٥ (8)📚التلخيص الحبير ج٢ص١٣٥ اسی طرح امام شافعی﷬ سے منقول ہے: ”جب شہر بڑھ جائے، اس کی آبادی گھنی ہوجائے اور اس میں چھوٹی بڑی کئی مساجد تعمیر ہوجائیں تب بھی میرے نزدیک جمعہ صرف ایک ہی مسجد میں ادا کیا جائے گا۔“ وَإِذَا اتَّسَعَتْ الْبَلَدُ وَكَثُرَتْ عِمَارَتُهَا فَبُنِيَتْ فِيهَا مَسَاجِدُ كَثِيرَةٌ عِظَامٌ وَصِغَارٌ لَمْ يَجُزْ عِنْدِي أَنْ يُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ فِيهَا إلَّا فِي مَسْجِدٍ وَاحِدٍ. (📚الأم للشافعی:ج١ص١٢٢ )  اسی جیسی بات مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے: (1)📚مختصر المزني ج٨ص١٢٢ (2)📚 مختصر اختلاف العلماء ج١ص٣٣٢ (3)الحاوي الكبير ج٢ص ٤٤٧ (4) المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي ج١ص٢٢٠ (5)📚شرح التلقين ج١ص٩٧٦ (6)📚البيان في مذهب الإمام الشافعي ج٢ص٦١٩ (7) 📚تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير ج٣٠ص٥٤٣ (8)📚 المغني لابن قدامة ج٢ص٢٤٨ (9)📚المجموع شرح المهذب ج٤ص٥٨٤ (10) 📚الشرح الكبير على متن المقنع ج٢ص١٩٠ 🌟مذکورہ مسئلہ میں سختی کی وجہ!:🌟 اس مسئلہ میں علماء کا سخت رویہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام﷢ کے زمانے سے مسلسل یہ عمل چلا آرہا ہے، اور اس کے خلاف کا  کوئی ثبوت قرونِ اولی میں نہیں ملتا ہے، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جس نے ایسا کام کیا  جو ہمارے طریق پر نہ ہو وہ مردود (بدعت) ہے۔“ (صحيح مسلم: ١٧١٨) علماء نے اس مسئلہ میں منقول روایات کو ”متواترِمعنوی“ قرار دیا ہے، جس کا درجہ قرآن کی آیت (نص قطعی) کے برابر ہوتا ہے۔ (📚البدر المنير: ج٤ص٥٩٤، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل: ج٣ص٨١) اس سے بھی اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نیز شہر میں ایک جمعہ کا ہونا مسلمانوں کی اجتماعیت کا ذریعہ ہے، محبت و الفت کے بڑھانے کا ذریعہ ہے، اور مسلمانوں کا الگ الگ جمع ہونا ”اختلاف و تفریق“ کا ذریعہ ہے، جو ”مسجدِ ضِرار“ کی صفات میں سے ہے۔ ”مسجدِ ضِرار“ کو منافقین نے قائم کیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ و تفریق پیدا کرنا تھا، اور اس کو توڑنے کا حکم اللہ نے قرآن میں نازل فرمایا۔ (توبہ: آیت ١٠٧) (ماخوذ فتاوى السبكی: ج١ص١٧٥) 🌟متعدد جمعہ کے سلسلے میں فقہائے شوافع کا موقف:🌟 اسی طرح بعد آنے والے فقہائے شوافع نے بھی ایک ہی بات اپنی کتابوں میں لکھی ہے کہ شہر میں صرف ایک ہی جمعہ قائم کیا جائے گا، بلکہ اس سے بڑھ اکثر فقہائے شوافع نے جمعہ کے صحیح ہونے کی شرط قرار دیا ہے کہ ایک شہر میں ایک سے زائد جمعہ نہ ہو، چناں چہ امام نووی﷬ تحریر فرماتے ہیں کہ ”جمعہ درست و صحیح ہونے کے شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ اس شہر میں اس سے پہلے بھی کوئی جمعہ نہ ہو، اور نہ اس کے ساتھ“ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْأَصْحَابُ فَشَرْطُ الْجُمُعَةِ أَنْ لَا يَسْبِقَهَا فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ جُمُعَةٌ أُخْرَى وَلَا يُقَارِنَهَا. (📚المجموع شرح المهذب: ج٤ص٥٨٥) اور یہی بات تمام فقہائے شوافع نے لکھی ہے: (1)📚روضة الطالبين وعمدة المفتين ج٢ص٥ (2) 📚منهاج الطالبين وعمدة المفتين في الفقه ص٤٧ (3)📚النجم الوهاج في شرح المنهاج ج٢ص٤٥٨ (4)📚 المقدمة الحضرمية ص١٠٤ (5)📚فتح الوهاب بشرح منهج الطلاب ج١ص٨٧ (6)📚منهج الطلاب في فقه الإمام الشافعي رضي الله عنه ص٢٤ (7)📚المنھاج القويم شرح المقدمة الحضرمية ص١٧٥ (8)📚تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي ج٢ص٤٢٥ (9)📚الإقناع في حل ألفاظ أبي شجاع ج١ص١٨١ (10) 📚مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج ج١ص٥٤٣ (11) 📚 فتح المعين بشرح قرة العين بمهمات الدين ص١٩٨ (12)📚 غاية البيان شرح زبد ابن رسلان ص١٢٥ (13)📚نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج ج٢ص٣٠١ (14)📚حاشيتا قليوبي وعميرة ج١ص٣١٥ (15)📚حاشية الجمل على شرح المنهج = فتوحات الوهاب بتوضيح شرح منهج الطلاب ج٢ص١٥ (16) 📚حاشية البجيرمي على الخطيب = تحفة الحبيب على شرح الخطيب ج٢ص١٩٤ (17) 📚حاشية البجيرمي على شرح المنهج = التجريد لنفع العبيد ج١ص٣٨٢ (18)شرح المقدمة الحضرمية المسمى بشرى الكريم بشرح مسائل التعليم ص٣٨٧ (19)📚 إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعين ج٢ص٧٣ (20) 📚نهاية الزين ص١٣٩ (21) 📚السراج الوهاج ص٨٥ (22)  📚 القول المبين في أخطاء المصلين ص٣٨٥ (23) 📚النجم الوهاج في شرح المنهاج ج٢ص٤٥٨ (24) 📚شرح مشكل الوسيط ج٢ص٢٧١ (25) 📚شرح المقدمة الحضرمية المسمى بشرى الكريم بشرح مسائل التعليم ص٣٨٧ (26)📚 عمدة السالك وعدة الناسك ص٨٢ (27) 📚الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي ج١ص٢٠٣ (28) 📚 العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير ج٢ص٢٥١ (29)📚الفتاوى الفقهية الكبرى ج١ ص٢٣٥ (30)📚الفقه الإسلامي وأدلته ج٢ص٤٣٧ فقہائے شافعیہ نے اس مسئلہ پر مستقل کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں، جن میں اسی بات کو ثابت کیا ہے کہ ایک شہر میں ایک ہی جمعہ قائم کیا جائے، جب کہ ایک مسجد میں سب جمع ہوسکتے ہوں، نیز اسی پر تمام ائمہ کا اجماع بھی ہے۔ ان میں سے چند کتابیں یہ ہیں: (1)كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالْوَاحِدِ الْأَحَدِ مِنْ إقَامَة جُمُعَتَيْنِ فِي بَلَدٍ (2) ذَمُّ السَّمَعَةِ فِي مَنْعِ تَعَدُّدِ الْجُمُعَةِ (3) تَعَدُّدُ الْجُمُعَةِ وَهَلْ فِيهِ مُتَّسَعٌ (4) الْقَوْلُ الْمُتَّبَعُ فِي مَنْعِ تَعَدُّدِ الْجُمَعِ. واللہ اعلم بالصواب 📝🌟طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 🌟 صدر مدرس مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور 9422800951📲

Tuesday, 23 February 2016

فقہ شافعی کا مختصر تعارف


🍁ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ کا مختصر تعارف🍁 ﯾﮧ ﻓﻘﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﺷﺎﻓﻌﯽ رحمتہ اللہ علیہ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ۱۵۰ ﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ۲۰۴ ﮪ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ ، ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻧﺸﻮ ﻭﻧﻤﺎ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ، ♦ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﻋﻠﻤﯽ ﺩﻭﺭ♦ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﻭﺗﻔﻘﮧ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﺗﯿﻦ ﺩﻭﺭ ﮔﺬﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﻝ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﮑﮧ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﯾﮩﺎﮞ ﻗﯿﺎﻡ ، ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻓﻘﮧ ﺣﺠﺎﺯ ﯼ ﮐﮯ ﺯﺑﺮ ﺩﺳﺖ ﻣﺆﯾﺪ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﮧ ﻋﺮﺍﻗﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻗﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﮭﺮ ۱۹۵ ﮪ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻓﯿﻀﺎﻥ ﻋﻠﻢ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ ، ﺍﺱ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ، ﭘﮭﺮ ۱۹۹ ﮪ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺳﮯ ﻣﺼﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﮯ ، ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺭﺍﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺘﮭﺎﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﺍﺯﺳﺮ ﻧﻮ ﻧﻈﺮ ﺛﺎﻧﯽ ﻓﺮ ﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﻓﺮﻣﺎﻟﯿﺎ ، ﺍﻧﮩﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﺷﺪﮦ ﺁﺭﺍﺀ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﺟﺪ ﯾﺪ ﮐﮩﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﻗﻮﻝ ﻗﺪﯾﻢ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ♦ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﮯ ﻣﺼﺎﺩﺭ♦ ﺧﻮﺩ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﺳﺎﺕ ﺍﺩلہ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ ، ﺳﻨﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ، ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺍﻣﺖ ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ، ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ، ﺍﺟﻤﺎﻉ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ، ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻓﯿﮧ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ۔ ‏( ﺍﻻﻡ : ﺍ ۱۷۹/ ‏) ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﻣﺂﺧﺬ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﻭﮨﯽ ﭼﺎﺭ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻋﺎﻡ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﻧﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ ، ﺳﻨﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ، ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﺱ؛ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﯾﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻓﻦ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﺗﺪﻭﯾﻦ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺗﻨﻘﯿﺢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﺂﺧﺬ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺟﺎﺕ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ، ﻗﯿﺎﺳﯽ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﻮﻝ ﻭ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻦ ﭘﺮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺎ ﮨﮯ ۔ ♦ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻗﻠﯿﻦ♦ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺘﮭﺪﺍﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺧﻮﺩ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ، ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺩﻭ ﻭﺍﺳﻄﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ، ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺗﻼﻣﺬﮦ ﮐﺎ ، ﻭﺍﻗﻌﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮍﮮ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﻠﮯ ، ﺟﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﯽ ﻣﺮﺍﮐﺰ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﺮﺟﻌﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ ، ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﮯ ﺗﻼﻣﺬﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺣﻤﯿﺪﯼ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۱۹: ﮪ ‏) ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﺍﺳﺤﺎﻕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۳۷ : ﮪ ‏) ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﻔﯿﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﻋﻠﯽ ﺯﻋﻔﺮﺍﻧﯽ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۶۰ : ﮪ ‏) ﺍﺑﻮﻋﻠﯽ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺮﺍﺑﯿﺴﯽ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۵۶: ﮪ ‏) ﺍﺑﻮﺛﻮﺭﮐﻠﺒﯽ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۵۶: ﮪ ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۴۱: ﮪ ‏) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺭﺍﮬﻮﯾﮧ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۳۸: ﮪ ‏) ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﺳﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺼﺮ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻋﻠﻢ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺝ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺍﮨﻞ ﻋﻠﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺗﻠﻤﺬﺗﮩﮧ ﮐﯿﺎ ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﻣﻠﮧ ﺑﻦ ﯾﺤﯿﯽٰ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۶۶: ﮪ ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺧﺎﺹ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﯾﻌﻘﻮﺏ ﺑﻮﯾﻄﯽ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۳۱: ﮪ ‏) ﺍﺑﻮﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻣﺰﻧﯽ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۶۴: ﮪ ‏) ﺭﺑﯿﻊ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩﯼ ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۷۰ : ﮪ ‏) ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﺴﺐ ﻓﯿﺾ ﮐﯿﺎ؛ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺗﻼﻣﺬﮦ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ؒ ﮐﯽ ﻓﻘﮧ ﮐﻮ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﻭ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﻣﻠﯽ۔ ♦ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ♦ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ : 📚ﺍﻷﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲:۰۴ ﮪ 📚ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻣﺰﻧﯽ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﺑﻦ ﯾﺤﯿﯽٰ ﻣﺰﻧﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۲۶۴: ﮪ 📚ﺍﻟﻤﮭﺬﺏ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۴۷۶ : ﮪ 📚ﺍﻟﺘﺒﻨﯿﮧ ﻓﯽ ﻓﺮﻭﻉ ﺍﻟﺸﺎﻓﻌﯿﮧ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۴۷۶ : ﮪ 📚ﻧﮩﺎﯾۃ ﺍﻟﻄﺎﻟﺐ ﻭﺩﺭﺍﯾۃ ﺍﻟﻤﮭﺬﺏ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻟﺤﺮﻣﯿﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻠﮏ ﺟﻮﯾﻨﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۴۷۸ : ﮪ 📚ﺍﻟﻮ ﺳﯿﻂ فی ﻓﺮﻭﻉ ﺍﻟﻤﺬﮬﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۵۰۵: ﮪ 📚ﺍﻟﻮﺟﯿﺰ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۵۰۵: ﮪ 📚ﺍﻟﻤﺤﺮﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﮑﺮﯾﻢ ﺭﺍﻓﻌﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۶۲:۳ ﮪ 📚ﻓﺘﺢ ﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﻓﯽ ﺷﺮﺡ ﺍﻟﻮ ﺟﯿﺰ ﻋﻼﻣﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﮑﺮﯾﻢ ﺭﺍﻓﻌﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۶۲۳ : ﮪ 📚ﺭﻭﺿۃ ﺍﻟﻄﺎﻟﻠﺒﯿﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﻮﻭﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۶۷۶ : ﮪ 📚ﻣﻨﮩﺎﺝ ﺍﻟﻄﺎﻟﺒﯿﻦ ﺍماﻡ ﺍﺑﻮ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﻮﻭﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۶۷۶ : ﮪ 📚ﺍﻟﺘﺤﻘﯿﻖ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﻮﻭﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۶۷۶ : ﮪ 📚ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ﺷﺮﺡ ﺍﻟﻤﮭﺬﺏ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﻮﻭﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۶۷۶ : ﮪ 📚ﺗﺤﻔۃ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺝ ﺷﺮﺡ ﺍﻟﻤﻨﮭﺎﺝ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﺠﺮ ہیتمی ﻣﺘﻮﻓﯽ ۹۷۴ : ﮪ 📚ﻣﻐﻨﯽ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺝ ﺷﻢﺱ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﺮ ﺑﯿﻨﯽ ﺧﻄﯿﺐ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۹۷۷: ﮪ 📚ﻧﮩﺎﯾۃ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺝ شمس ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺟﻤﺎﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﺭﻣﻠﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۱۰۰۴ : ﮪ ﻣﺘﺎﺧﺮﯾﻦ ﺷﻮﺍﻓﻊ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ " ﻣﻐﻨﯽ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺝ " ﺍﻭﺭ " ﻧﮩﺎﯾۃ " ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺝ ﮐﻮ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﻋﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔ ♦ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺧﺎﺹ ﺍﺻﻄﻼﺣﺎﺕ♦ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺁﺭﺍﺀ ﻭﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮﺍﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ، ‏( ۱ ‏) ﺍﻗﻮﺍﻝ ‏( ۲ ‏) ﺍﻭﺟﮧ ‏( ۳ ‏) ﻃﺮﻕ۔ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻥ ﮐﻮ " ﺍﻗﻮﺍﻝ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﻭﻗﻮﺍﻋﺪ ﭘﺮ ﺗﺨﺮﯾﺞ ﻭﺗﻔﺮﯾﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﺷﻮﺍﻓﻊ ﺟﻮ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ " ﺍﻭﺟﮧ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺭﺍﻭﯼ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﻭﺭﺍﺋﮯ ﮐﯽ ﻧﻘﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﻢ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ " ﻃﺮﻕ " ﺳﮯ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻉ : ۶۵،۶۶ ‏) ♦ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﺘﯽ ﺑﮧ ﻗﻮﻝ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ؟ ﻗﺪﯾﻢ ﯾﺎ ﺟﺪﯾﺪ؟♦ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻮﻻً ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﮯ ﻗﻮﻝ ﺟﺪﯾﺪ ﭘﺮ ﻓﺘﻮﯼ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﻮﻝ ﻗﺪﯾﻢ ﮨﯽ ﭘﺮ ﻓﺘﻮﯼ ﮨﮯ ، ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻟﺤﺮﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺑﻌﻀﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﯿﺲ ﺗﮏ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ۶۶: ‏) ♦ﻓﻘﮩﺎﺀ ﺷﻮﺍﻓﻊ ﮐﮯ ﻃﺒﻘﺎﺕ♦ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ : ‏( ۱ ‏) ﻣﺠﺘﮩﺪ ﻣﺴﺘﻘﻞ ‏( ۲ ‏) ﻣﺠﺘﮭﺪ ﻣﻨﺘﺴﺐ ‏( ۳ ‏) ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻭﺟﻮﮦ ‏( ۴ ‏) ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻟﻨﻔﺲ ‏( ۵ ‏) ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺍﻓﺘﺎﺀ 🍁ﻣﺠﺘﮩﺪ ﻣﺴﺘﻘﻞ🍁 ﻭﮦ ﺍﺋﻤﮧ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺟﺘﮭﺎﺩ ﻭﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻧﮩﺞ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﮞ ، ﺟﯿﺴﮯ : ﺍﺋﻤﮧ ﺍﺭﺑﻌﮧ۔ 🍁ﻣﺠﺘﮩﺪ ﻣﻨﺘﺴﺐ🍁 ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺭﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﺭﺍﺋﮯ ، ﻓﺮﻭﻉ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ، ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﻘﻠﺪﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﻭﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﮐﺎ ﻧﮩﺞ ﮐﺴﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺬﮨﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﻮ ، ﻓﻘﮩﺎﺀ ﺷﻮﺍﻓﻊ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﻧﯽ ، ﺍﺑﻮ ﺛﻮﺭ ، ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺑﻦ ﻣﻨﺬﺭﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺒﻘﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ 🍁ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻭﺟﻮﮦ🍁 ﺍﻥ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮞ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻻﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﻭ ﻗﻮﺍﻋﺪ ﺳﮯ ﺍﻧﺤﺮﺍﻑ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮞ۔ 🍁ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻟﻨﻔﺲ🍁 ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔ 🍁ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺍﻓﺘﺎﺀ🍁 ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺟﺰﺋﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ ، ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺘﺴﺒﯿﻦ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺗﺨﺮﯾﺠﺎﺕ ﺑﮭﯽ ، ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺗﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮ؛ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺰ ﺋﯿﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﺩﻧﯽ ﺗﺎﻣﻞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮨﯽ ﺣﮑﻢ ﺍﺱ ﭘﯿﺶ ﺁﻣﺪﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻓﺘﻮﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ۴۴ : ‏) ♦ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ♦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺼﺮ ، ﺍﻧﮉﻭﻧﯿﺸﯿﺎ ، ﯾﻤﻦ ، ﻋﺮﺍﻕ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﮧ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﮯ ﻣﺘﺒﻌﯿﻦ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺳﯽ ﻓﻘﮧ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 9422800951📲 صدر مدرس مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور

Thursday, 18 February 2016

فقہ شافعی اور عورتوں کی نماز

🍁شافعی فقہ اور عورتوں کی نماز 🍁
♦امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اپنی مایہ نازتصنیف 📚'کتاب الام ' میں تحریر فرماتے ھیں کہ اللہ تعالی نے عورتوں کو پوشیدہ اور مستور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو اس کی تعلیم دی ہے۔ اور عورت کے لئے اس بات کو پسند فرمایا کہ وہ سجدے میں اپنے بعض حصے کو بعض سے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے ملاکر رکھے اوراسی طرح سجدہ کرے کہ اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے۔نیزاسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لئے رکوع اور جلسے اور پوری نماز میں اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ وہ اپنی چادر کو سمیٹ لے اورچادر کو رکوع اور سجدہ کرتے ھوئے اپنے اوپر ڈھیلا رکھے تاکہ اس کے کپڑے اس کی تصویر نہ کھینچیں (وقد ادب اللہ تعالی النساء با لاستتار وادبھن بذلک رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم واحب..............📚کتاب الام ص١٣٨ )
♦امام نووی رحمتہ اللہ علیہ مردوں کی نماز کے احکام بیان کرنے کےبعد تحریر فرماتے ھے "عورتیں اور خنثی اپنے اجزا کو قریب کو سمیٹ لیں(وتضم المرا ٔہ والخنثی📚منہاج الطالبین وعمدہ المفتین ص ١٠٠)
♦امام شربینی رحمتہ اللہ علیہ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ کی مذکورہ عبارت کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ھیں یہ لوگ (یعنی عورت اور خنثی) رکوع اور سجے میں اپنے اجزا کو سمیٹ لیں اور اسی طرح اپنی رانوں پر پیٹ کا سہارا دیں کیوں کہ یہ عورت کے لئے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے اور خنثی کے لئے زیادہ محفوظ (وھو من زیادتہ علی المحرر بعضھا الی بعض فی رکوعھما وسجودھما بان یلصقا بطنھما بفخذ یھما لانہ استر لھا واحوط لہ📚مغنی المحتاج ج١ص١٧٠)
♦امام بہیقی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ھیں نمازکے تمام احکام جس میں عورتوں اور مردوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔اس کی بنیاد سترہے۔ عورتوں کو طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے زیادہ پوشیدگی اور ستر قائم رہے (وجماع ما یفارق المراہ فیہ الرجل من احکام الصلوہ راجع الی الستر وھو انھا مامورہ بکل ما کان استر لھا📚سنن الکبری ج٢ص٢٢٢)

♦ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ رکوع کی تفصیل بیان کرتے ھوئے تحریر فرماتے ھیں مرد کو اپنی کہنیاں بازو اور جسم سے الگ رکھنے چاہیے جیسے عورت اور خنثی کو کہنیاں الگ نہ رکھنی چاہیے (ویجافی الرجل مرفقیہ عن جنبیہ ولا تجافی المراہ ولا الخنثی 📚روضتہ الطالبین ج١ص٣٥٥)
اسی کتاب میں ♦امام نووی رحمتہ اللہ علیہ ایک دوسری جگہ رقمطراز ھیں مرد کو کہنیوں اور بازو رانوں اور پیٹ کے درمیان فاصلہ رکھنا چاہیے ۔اس کے برعکس عورت اپنے تمام اجزاءکو سمیٹ کر قریب رکھے گی (ویرفع الرجل مرفقیہ عن جنبیہ وبطنہ عن فخذیہ والمراہ تضم بعضھا الی بعض📚روضتہ الطالبین ج١ص٣٦٤ )
♦امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ھے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عورت کے بیٹھنے کا طریقہ ایسا ہو جس میں زیادہ سے زیادہ ستر پوشی حاصل ہو(وقال الشافعی تجلس المراہ باستر مایکون لھا📚الاستذکار ج١ص٤٨٠)
طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 9422800951