🍁متعدد جمعہ کے بارے میں امام شافعی کا موقف🍁
امام بیہقی نے اپنی سند کے ساتھ امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ ”جب شہر بڑا ہو، تو میری رائے یہ ہے کہ شہر کی بڑی مسجد میں جمعہ ادا کی جائے۔ اور وہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد کے زمانے میں ”مدینہ منورہ“ و اطراف میں جمعہ صرف مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوتا ہے۔“ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ قَالَ: فَإِذَا كَانَ مِصْرٌ عَظِيمٌ، رَأَيْتُ أَنْ يُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ فِي مَسْجِدِهِ الْأَعْظَمِ, وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ الْجُمُعَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِالْمَدِينَةِ، وَحَوْلَ الْمَدِينَةِ فِي الْعَوَالِي وَغَيْرِهَا. (📚معرفة السنن والآثار: ٦٥٧١)
اسی طرح امام شافعی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”الام“ میں تحریر فرمایا ہے کہ”شہر کی صرف بڑی مسجد میں جمعہ ادا کی جائے، اگرچہ شہر کی مردم شماری، آبادی اور مساجد بڑھ جائیں، جمعہ ایک ہی مسجد میں ادا کیا جائے۔“ وَلَا يُجْمَعُ فِي مِصْرٍ وَإِنْ عَظُمَ أَهْلُهُ وَكَثُرَ عَامِلُهُ وَمَسَاجِدُهُ إلَّا فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَإِنْ كَانَتْ لَهُ مَسَاجِدُ عِظَامٌ لَمْ يُجْمَعْ فِيهَا إلَّا فِي وَاحِدٍ. (📚الأم للشافعی: ج ١ص٢٢١)
اسی طرح کی بات امام شافعی سےان کے مذہب کے علماؤں نے مندجہ ذیل کتابوں میں نقل کی ہے:
(1)📚مختصر المزني ج٨ ص١٢٢
(2) 📚الحاوي الكبير ج٢ص٤٤٧
(3)📚المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي ج١ص٢٢٠
(4)📚 البيان في مذهب الإمام الشافعي ج٢ ص٦١٩
(5)📚فتح العزيز بشرح الوجيز = الشرح الكبير للرافعي ج٤ص٤٩٨
(6)📚المجموع شرح المهذب ج٤ص٥٨٤
(7)📚روضة الطالبين وعمدة المفتين ج٢ص٥
(8)📚التلخيص الحبير ج٢ص١٣٥
اسی طرح امام شافعی سے منقول ہے: ”جب شہر بڑھ جائے، اس کی آبادی گھنی ہوجائے اور اس میں چھوٹی بڑی کئی مساجد تعمیر ہوجائیں تب بھی میرے نزدیک جمعہ صرف ایک ہی مسجد میں ادا کیا جائے گا۔“ وَإِذَا اتَّسَعَتْ الْبَلَدُ وَكَثُرَتْ عِمَارَتُهَا فَبُنِيَتْ فِيهَا مَسَاجِدُ كَثِيرَةٌ عِظَامٌ وَصِغَارٌ لَمْ يَجُزْ عِنْدِي أَنْ يُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ فِيهَا إلَّا فِي مَسْجِدٍ وَاحِدٍ. (📚الأم للشافعی:ج١ص١٢٢ )
اسی جیسی بات مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
(1)📚مختصر المزني ج٨ص١٢٢
(2)📚 مختصر اختلاف العلماء ج١ص٣٣٢
(3)الحاوي الكبير ج٢ص ٤٤٧
(4) المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي ج١ص٢٢٠
(5)📚شرح التلقين ج١ص٩٧٦
(6)📚البيان في مذهب الإمام الشافعي ج٢ص٦١٩
(7) 📚تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير ج٣٠ص٥٤٣
(8)📚 المغني لابن قدامة ج٢ص٢٤٨
(9)📚المجموع شرح المهذب ج٤ص٥٨٤
(10) 📚الشرح الكبير على متن المقنع ج٢ص١٩٠
🌟مذکورہ مسئلہ میں سختی کی وجہ!:🌟
اس مسئلہ میں علماء کا سخت رویہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام کے زمانے سے مسلسل یہ عمل چلا آرہا ہے، اور اس کے خلاف کا کوئی ثبوت قرونِ اولی میں نہیں ملتا ہے، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریق پر نہ ہو وہ مردود (بدعت) ہے۔“ (صحيح مسلم: ١٧١٨)
علماء نے اس مسئلہ میں منقول روایات کو ”متواترِمعنوی“ قرار دیا ہے، جس کا درجہ قرآن کی آیت (نص قطعی) کے برابر ہوتا ہے۔ (📚البدر المنير: ج٤ص٥٩٤، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل: ج٣ص٨١) اس سے بھی اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
نیز شہر میں ایک جمعہ کا ہونا مسلمانوں کی اجتماعیت کا ذریعہ ہے، محبت و الفت کے بڑھانے کا ذریعہ ہے، اور مسلمانوں کا الگ الگ جمع ہونا ”اختلاف و تفریق“ کا ذریعہ ہے، جو ”مسجدِ ضِرار“ کی صفات میں سے ہے۔ ”مسجدِ ضِرار“ کو منافقین نے قائم کیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ و تفریق پیدا کرنا تھا، اور اس کو توڑنے کا حکم اللہ نے قرآن میں نازل فرمایا۔ (توبہ: آیت ١٠٧) (ماخوذ فتاوى السبكی: ج١ص١٧٥)
🌟متعدد جمعہ کے سلسلے میں فقہائے شوافع کا موقف:🌟
اسی طرح بعد آنے والے فقہائے شوافع نے بھی ایک ہی بات اپنی کتابوں میں لکھی ہے کہ شہر میں صرف ایک ہی جمعہ قائم کیا جائے گا، بلکہ اس سے بڑھ اکثر فقہائے شوافع نے جمعہ کے صحیح ہونے کی شرط قرار دیا ہے کہ ایک شہر میں ایک سے زائد جمعہ نہ ہو، چناں چہ امام نووی تحریر فرماتے ہیں کہ ”جمعہ درست و صحیح ہونے کے شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ اس شہر میں اس سے پہلے بھی کوئی جمعہ نہ ہو، اور نہ اس کے ساتھ“ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْأَصْحَابُ فَشَرْطُ الْجُمُعَةِ أَنْ لَا يَسْبِقَهَا فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ جُمُعَةٌ أُخْرَى وَلَا يُقَارِنَهَا. (📚المجموع شرح المهذب: ج٤ص٥٨٥) اور یہی بات تمام فقہائے شوافع نے لکھی ہے:
(1)📚روضة الطالبين وعمدة المفتين ج٢ص٥
(2) 📚منهاج الطالبين وعمدة المفتين في الفقه ص٤٧
(3)📚النجم الوهاج في شرح المنهاج ج٢ص٤٥٨
(4)📚 المقدمة الحضرمية ص١٠٤
(5)📚فتح الوهاب بشرح منهج الطلاب ج١ص٨٧
(6)📚منهج الطلاب في فقه الإمام الشافعي رضي الله عنه ص٢٤
(7)📚المنھاج القويم شرح المقدمة الحضرمية ص١٧٥
(8)📚تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي ج٢ص٤٢٥
(9)📚الإقناع في حل ألفاظ أبي شجاع ج١ص١٨١
(10) 📚مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج ج١ص٥٤٣
(11) 📚 فتح المعين بشرح قرة العين بمهمات الدين ص١٩٨
(12)📚 غاية البيان شرح زبد ابن رسلان ص١٢٥
(13)📚نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج ج٢ص٣٠١
(14)📚حاشيتا قليوبي وعميرة ج١ص٣١٥
(15)📚حاشية الجمل على شرح المنهج = فتوحات الوهاب بتوضيح شرح منهج الطلاب ج٢ص١٥
(16) 📚حاشية البجيرمي على الخطيب = تحفة الحبيب على شرح الخطيب ج٢ص١٩٤
(17) 📚حاشية البجيرمي على شرح المنهج = التجريد لنفع العبيد ج١ص٣٨٢
(18)شرح المقدمة الحضرمية المسمى بشرى الكريم بشرح مسائل التعليم ص٣٨٧
(19)📚 إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعين ج٢ص٧٣
(20) 📚نهاية الزين ص١٣٩
(21) 📚السراج الوهاج ص٨٥
(22) 📚 القول المبين في أخطاء المصلين ص٣٨٥
(23) 📚النجم الوهاج في شرح المنهاج ج٢ص٤٥٨
(24) 📚شرح مشكل الوسيط ج٢ص٢٧١
(25) 📚شرح المقدمة الحضرمية المسمى بشرى الكريم بشرح مسائل التعليم ص٣٨٧
(26)📚 عمدة السالك وعدة الناسك ص٨٢
(27) 📚الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي ج١ص٢٠٣
(28) 📚 العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير ج٢ص٢٥١
(29)📚الفتاوى الفقهية الكبرى ج١ ص٢٣٥
(30)📚الفقه الإسلامي وأدلته ج٢ص٤٣٧
فقہائے شافعیہ نے اس مسئلہ پر مستقل کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں، جن میں اسی بات کو ثابت کیا ہے کہ ایک شہر میں ایک ہی جمعہ قائم کیا جائے، جب کہ ایک مسجد میں سب جمع ہوسکتے ہوں، نیز اسی پر تمام ائمہ کا اجماع بھی ہے۔ ان میں سے چند کتابیں یہ ہیں: (1)كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالْوَاحِدِ الْأَحَدِ مِنْ إقَامَة جُمُعَتَيْنِ فِي بَلَدٍ (2) ذَمُّ السَّمَعَةِ فِي مَنْعِ تَعَدُّدِ الْجُمُعَةِ (3) تَعَدُّدُ الْجُمُعَةِ وَهَلْ فِيهِ مُتَّسَعٌ (4) الْقَوْلُ الْمُتَّبَعُ فِي مَنْعِ تَعَدُّدِ الْجُمَعِ. واللہ اعلم بالصواب
📝🌟طالب دعا محمد لقمان سمناکے شافعی 🌟
صدر مدرس مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور 9422800951📲
No comments:
Post a Comment