*🔵احکام قربانی فقہ شافعی کی روشنی میں🔵*
*💫قربانی کا حکم💫*
قربانی کے جانور کو عربی میں *اُضحِیَّہ* کہاجاتا ہے۔قربانی کرنا سنت موکدہ ہے۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص ١٣١)*
چنانچہ حدیث شریف میں واردہے ۔انسان کے اعمال میں سے کوئی ایک عید الاضحی کے دن اللہ تعالی کے نزدیک قربانی کی بہ نسبت زیادہ محبوب نہیں ۔
*(📚جامع ترمذی رقم حدیث١٤٩٣)*
یہاں یہ بات ذہن نشین فرمائیں کہ زندگی میں صرف ایک بار قربانی کرنا سنت نہیں بلکہ ہر سال قربانی کرنا ایک مستقل سنت ہے۔اسی لئے جس کو اللہ تعالی نے مال ودولت سے نوازا ہو اور استطاعت دے رکھی ہو تو اسے ہر سال سنت قربانی پر عمل کرنا چاہئے ۔کیونکہ استطاعت اور قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے کے لئے سخت وعید بیان کی گئی ھے۔جیسا کہ ایک حدیث میں ھے ۔
جسے قربانی کی استطاعت وقدرت ہوپھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ ہو۔
*(📚 المستدرک للحاکم ج٤ ص ٢٥٨)*
اسی وجہ سے فقہائے کرام نے لکھاہے کہ قربانی پر قادر ہوتے ہوئے قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔
*(📚 مغنی المحتاج ج ٤ ص٢٨٣)*
*💫قربانی کرنے کا ارادہ کرنے والوں کے چند ہدایات💫*
جس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو اس کے لئے ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے قربانی کرنے تک اپنے بدن کے بال وناخن اور کسی بھی قسم کی صفائی نہ کرنا سنت ہے۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣٢)*
کیونکہ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہتا ہوں تو وہ اپنے وناخن وغیرہ نہ کاٹے۔
*(📚 صحیح مسلم رقم حدیث ١٩٧٧)*
*💫قربانی کے جانور کی کیفیت💫*
جن جانوروں پر قربانی درست ہے انمیں سے مذکر ومونث کسی بھی جانور پر قربانی کی جاسکتی ہے۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣١)*
البتہ حاملہ جانور پر قربانی درست نہیں
*(📚مغنی المحتاج ج ٤ ص ٢٨٦)*
خصی کئے ہوئے جانور پر بھی قربانی درست ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج ٤ ص٢٨٥)*
جیسا کہ حدیث میں ھے رسول اللہ ﷺ نے دو خصی شدہ مینڈھوں پر قربانی فرملئی تھی
*(📚ابوداؤد رقم حدیث ٩٥٢٧)*
*💫قربانی کے جانور کی عمر💫*
قربانی کے درست ہونے کے لئے ذیل میں دئیے ہوئے جانوروں پر ذکر کردہ سال کا مکمل ہونا شرط ہے ۔
اونٹ پانچ سال گائے بیل بکرا بکری دو سال مینڈھا مینڈھی ایک سال
*(📚مغنی المحتاج ج ٤ ص ٢٨٤)*
اس تفصیل پر حضرا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روشنی حاصل ہوتی ہے کہ رسول اللہطﷺ نے فرمایا تم مسنہ ہی ذبح کرو مگر تمہیں ملنا دشوار ہوجائے تو پھر ایک سالہ مینڈھا ذبح کرو
*(📚ابو داؤد رقم حدیث ٢٧٩٧)*
اونٹ میں ثنیہ کا اطلاق ٥سالہ جانور پر ہوتا ہے اور گائے بیل بکرا بکری میں دو سالہ جانور کو کہتے ہیں جیسا کہ حدیث کے الفاظ غریبہ کے ماہر علامہ جزری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وضاحت فرمائی ہے۔
*(📚النھایہ فی غریب الحدیث ج ١ص ٢٦٦)* *💫جانوروں میں حصوں کی تعداد وکیفیت💫*
اونٹ گائے اور بیل پر سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣٢)*
جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ھے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہر اونٹ گائے وبیل میں ہم میں سے سات لوگ شریک ہوں
*(📚صحیح مسلم رقم حدیث ١٣١٨)*
چھوٹے جانور یعنی بکرا بکری مینڈھا مینڈھی میں ایک جانور پر صرف ایک ہی کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے۔
*(📚مغنی المحتاج ج ٤ص٢٨٥)*
بڑے جانور میں سات لوگ جس طرح محض قربانی کی نیت سے شریک ہوسکتے ہیں ۔اسی طرح ان میں سے بعض قربانی اور بعض عقیقہ وغیرہ کی نیت سے شریک ہوں تب بھی درست ہے۔
*(📚مغنی المحتاج ج ٤ص٢٨٥)*
*💫جانور کے عیوب کی وضاحت💫*
قربانی کے درست ہونے کے لئے جانور کا ہر ایسے عیب سے صحیح وسالم ہونا ضروری ہے۔جس کی وجہ سے اس کے گوشت وغیرہ میں کسی قسم کا نقص وخرابی پیدا ہو ۔
*(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٦)*
🌟جس جانور کی ہڈیوں کا گودا کمزوری کی وجہ سے بالکل ختم ہوگیا ہوگیا ہو تو اس پر قربانی درست نہیں ۔
🌟پاگل جانور یعنی وہ جانور جو چراگاہ وغیرہ میں اچھے طور پر نہ چر پاتا ہو اس پر قربانی درست نہیں۔
🌟کسی جانور کے کان کا کچھ حصہکٹ کر جسم سےالگ ہوگیا ہو یا پیدائشی ہی کسی جانور کے کان نہ ہوں تو اس پر بھی قربانی نہ ہوگی۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ ص١٣٥)*
🌟البتہ کسی جانورکا تھوڑا سا کان اس طور پر کٹ گیا ہو کہ کچھ بھی حصہ جسم سے الگ نہیں ہوپایا یا صرف معمولی سوراخ ہوا ہے تو ایسے جانور پر قربانی کی جاسکتی ہے۔
*(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٧)*
🌟جانور کےپیدائشی سرین وتھن موجود تھے بعد میں کسی نے ان کو کاٹ لیا تو ایسے جانوروپر قربانی نہیں کرسکتے ہاں اگر کسی جانورکو پیدائشی سرین وتھن نہ ہوں تو اس پر قربانی کرسکتے ہیں۔
🌟جانور کی صحیح سالم دم کاٹ لی گئی ہوتو اس پر قربانی درست نہیں البتہ کسی جانور کی پیدائشی دم نہ ہو یا ہو مگر چھوٹی ہوت اس پر قربانی درست ہے۔
*(📚 روضتہ الطالبین ج٣ص١٩٦)*
🌟اگر جانور بہت زیادہ لنگڑا ہو کہ اپنے لنگڑے پن کی وجہ سے دوسرے جانوروں کے ساتھ چراگاہ میں برابر چر نہیں پاتا بلکہ پیچھے رہتا ہے تو اس پر قربانی نہیں کرسکتے ہاں اگر اتنا معمولی لنگڑا پن ہوکہ چراگاہ میں دوسرے جانوروں سے پیچھے نہیں رہتا تو اس پر قربانی کرسکتے ہیں۔
🌟کانا (ایک آنکھ والے) جانور بھی قربانی درست نہیں۔
🌟خارش (کھجلی) والا جانور چاہے خارش (کھجلی) کم ہی ہو تب بھی اس پر قربانی درست نہیں کیونکہ خارش (کھجلی) کی وجہ سے گوشت اور چربی میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٦)*
🌟اگر کسی جانور کا سینگ اتنا زیادہ ٹوٹا ہو کہ اس کا اثر اس کے گوشت تک پہونچتا ہے تو اس پر بھی قربانی نہیں ہوسکتی اگر تھوڑا سا کٹا ہوا ہو کہ اس کا اثر گوشت تک نہیں پہونچ پاتا یا پیدائشی ہی کسی جانور کے سینگ نہ ہو تو ایسے جانور پر قربانی ہوسکتی ہے۔لیکن حتی الامکان کوشش یہی رہنی چاہئے کہ قربانی سینگ والے جانور پر ہو ۔کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے ۔
بہترین قربانی سینگ والا مینڈھا ہے ۔
*(📚المستدرک للحاکم ج ٤ص٥٤)*
اگرکسی جانور کے تھوڑے سے دانت گر گئے ہوں تو کوئی حرج نہیں اگر تمام ہی دانت گرگئے ہو تو اس پر قربانی درست نہیں ۔
*(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٦)*
*💫کسی دوسرے کی طرف سے قربانی کا حکم💫*
کسی زندہ آدمی کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر قربانی کرنا درست نہیں اسی طرح میت کی طرف سے قربانی کےسلسہ میں صحیح بات یہی ہے کہ اگر کسی نے اپنی زندگی میں قربانی کی وصیت نہیں کی ہے تو مرنے کے بعد اس کی طرف سے قربانی نہیں کی جاسکتی البتہ اگر کسی نے اپنی حیات میں وصیت کی ہو تو مرنے کے بعد اس کی طرف سے قربانی درست ہے۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ص ب١٨٤)*
ہمارے معاشرے میں عام طور پریہ بات چل پڑی ہے کہ قربانی میں حضورﷺ کا بھی ایک حصہ شمار کیا جاتاہے ۔اس مسئلہ کی فقہائے کرام نے حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائی کہ ہر امتی کو نبی کریم ﷺ کی وصیت نہ ہونے کی بنا پر قربانی میں آپ کا ایک حصہ شمار نہیں کرنا۔
*(📚مغنی المحتاج ج٤ص ٢٩٣)*
*💫قربانی کا جانور کسے ذبح کرنا چاہئے💫*
قربانی کرنے والا شخص اچھی طرح ذبح کا طریقہ جانتا ہو تو اسے اپنے ہی ہاتھوں قربانی کے جانور کو ذبح کرنا مسنون ہے ۔البتہ عورت کے لئے مسنون ہے کہ وہ کسی مرد کو ذبح کا وکیل بنائے اسی طرح جو بیماری یا کسی عذر کی بناء پر خود ذبح نہ کرسکتا ہو تو کسب دوسرے کو اپنا وکیل بنا سکتا ہے۔لیکن وکیل بنانے کے لئے اپنی قربانی کے پاس ذبخ کے وقت حاضر رہنا مستحب ہے۔
*(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٨٤)*
اسلئے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے قربانی کے موقع پر فرمایا اپنی قربانی کے پاس جاکر کھڑی رہو۔ *(📚المستدرک للحاکم ج٤ص٢٤٧)*
یہاں عورتوں کے لئے نہایت ہی قابل لحاظ امر ہے کہ وہ اس حاضری میں بے پردگی کا مظاہرہ نہ کریں کہیں *نیکی برباد گناہ لازم* کا مصداق نہ ہوجائیں ۔
*💫قربانی کے گوشت کا حکم اور اس کا مصرف💫*
قربانی کرنے والے کیلئےاپنی قربانی کا گوشت کھانا مستحب ہے۔
*(📚مغنی المحتاج ج٤ص٢٩٠)*
کیونکہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی قربانی کے جانور کا جگر تناول فرمایل تھا۔
*(📚السنن للبھیقی ج٣ص٢٨٣)*
چنانچہ بہتر صورت یہ ہے کہ تھوڑا سا گوشت اپنے لئے رکھ کر بقیہ گوشت تقسیم کرے۔
*(📚فتح الوہاب ج٢ص١٨٩)*
اگر کوئی اس سے زیادہ رکھنا چاہتا ہو تو مناسب ہے کہ مکمل گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرے ایک حصہ خود اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کیلئے ایک حصہ رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ فقیروں اور محتاجوں کے لئے ۔ *(📚مغنی المحتاج ج٤ص٣٩٠)*
*قربانی کے چمڑے کا حکم*
قربانی کا چمڑا صدقہ کرنا چاہئے اگر کوئی اپنے استعمال کیلئے رکھتا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ خوداس کاچمڑے یا گوشت کو بیچنا یا قصاب (قصائی) کو بطور اجرت دینا ہرگز درست نہیں *(📚نھایتہ المحتاج ج٨ص١٤٢)*
*💫جانور کے ذبح کے سلسلے میں چند ضروری ہدایات💫*
ذبح کےدرست ہونے کیلئے جانور کے حلقوم (سانس کی نالی ) اور مری (غذا کی نالی ) کو مکمل کاٹناضروری ہے۔لہذا اگر ان کا کچھ حصہ بھی کٹنے سے رہ جائے تو جانورحلال نہ ہوگا۔ *(📚اقناع ج٢ص٢٢٩)*
🌟ان دونوں کے کٹتے وقت جانور میں حیات مستقرہ پائی جانی ضروری ہے۔اگر کچھ حصہ کٹنے کے بعدچھری اٹھائےاور دوبارہ رکھ کر پھیرے یا چھری گرجائے اورفورا اٹھاکر ذبح کی تکمیل کرے تو یہ جانور حلال ہوگا بشرطیکہ اس میں حیات مستقرہ باقی ہو ۔
*(📚حاشیتہ الجمل ج ٨ص١٧٥)*
🌟حیات مستقرہ سے مراد جانور میں اختیاری حرکت یعنی تڑپنا اور حرکت کرنا پایا جائے اور حرکت مذبوح سےمراد جس میں جانور کے دیکھنے سننے کی قوت اور اختیاری حرکت باقی نہ رہے۔
*(📚نھایتہ المحتاج ج٨ص ١٣٥)*
🌟ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔لہذا اگر کافر ذبح کرے تو یہ حلال نہ ہوگا البتہ اگر جانور کو چیرنے اور صاف کرنے میں کافر شریک ہو تو حرج نہیں
*(📚فتح الوہاب ج٨ص١٨٣)*
🌟قربانی کے لئے ضروری ہے کہ اسے ذبح کرتے وقت یا اس سے قبل قربانی کےلئے متعین کرتے وقت قربانی کی نیت کرے اگر قربانی کے لئے کسی کو وکیل بنائے تو اس کے سپرد کرتے وقت نیت کافی ہے ۔
*(📚فتح الوہاب ج٨ ص٢١٠)*
*ذبح کرنے کا مسنون طریقہ*
🌟گائے بیل بکرا جیسے حیوانات کو بائیں کروٹ پر اس طرح لٹائے کہ جانور کا رخ قبلہ کی طرف ہوجائے اور خود ذبح کرنے والا بھی قبلہ رو ہو اور اس کے دائیں پیر کے علاوہ بقیہ تینوں پیر باندھ دے ۔
*(📚المجموع ج٨ص٣٠)*
🌟ذبح سے قبل جانور کے سامنے پانی (پینے کیلئے ) پیش کرے اور ای کے لٹانے میں نرمی کرے یعنی اسے پٹکے نہیں
🌟ذبح سے قبل اپنی چھری خوب اچھی طرح تیز کرلے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو *(صحیح مسلم رقم حدیث ١٩٥٥)*
🌟ذبح کے وقت ان دعاؤں کا پڑھنا مسنون ہے۔ *ﻭَﺟَّﻬْﺖُ ﻭَﺟْﻬِﻲَ ﻟِﻠَّﺬِﻱ ﻓَﻄَﺮَ ﺍﻟﺴَّﻤَﺄﻭَﺍﺕِ ﻭَﺍﻷَﺭْﺽِ ،عَلی مِلّتہ اِبراھِیمَ ﺣَﻨِﻴﻔًﺎ ﻭَﻣَﺎ ﺃَﻧَﺎ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﺸْﺮِﻛِﻴﻦَ، ﺇِﻥَّ ﺻَﻼَﺗِﻲ ﻭَﻧُﺴُﻜِﻲ ﻭَﻣَﺤْﻴَﺎﻱَ ﻭَﻣَﻤَﺎﺗِﻲ ﻟِﻠﻪِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴﻦَ، ﻻَ ﺷَﺮِﻳﻚَ ﻟَﻪُ ﻭَﺑِﺬَﻟِﻚَ ﺃُﻣِﺮْﺕُ ﻭَﺃَﻧَﺎ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﻴﻦ*َ،
*(📚ابو داؤد رقم حدیث ٧٢٩٥)*
بسم اللہ اللہ اکبر پھر درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھے *اللھم منک والیک فتقبل منی*
*(📚المجموع ج٨ص٣٠٣)*
🌟ذبح کرتے وقت ودجین یعنی گردن کے دونوں طرف محیط رگوں کو بھی کاٹنا مستحب ہے۔
*(📚مغنی المحتاج ج٦ص١٠٣)*
🌟چھری پھیرنے میں جلدی کرے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو .
*(📚العزیز ج١٢آص ٨٣)*
✍طالب دعا *محمد لقمان سمناکے شافعی*
صدر مدرس *مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور*
📲9422800951